بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیچر ٹریڈنگ سے پیسے کمانے کا حکم

سوال

فیوچر ٹریڈنگ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

شیئر مارکیٹ وغیرہ میں تجارت کا ایک طریقہ جسے" فیوچر ٹریڈ" (بیاعات مستقبلیات)  کہتے ہیں مروّج ہے، اس کا مقصد شیئر وغیرہ کا خریدنااور فروخت کرنا نہیں ہوتا بلکہ بڑھتے گھٹتے دام کے ساتھ نفع نقصان کو برابر کرلینا بھی مقصود ہوتا ہے، تجارت کا یہ طریقہ   چند وجوہات کی   بناء پر جائز نہیں ہے۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر موجود فتوی ملاحظہ فرمائیں:

فیوچر ٹریڈنگ سے پیسہ کمانا جائز ہے یا نہیں؟

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144510101570
تاریخ01-05-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں