بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

المیزان میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کا حکم

سوال

میزان بینک میں سرمایہ کاری حرام ہے ، تو کیا میزان میوچل فنڈ میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے؟ یہ علماء کے نگرانی میں کام کرتے ہیں اور ہمارے پیسوں کو شریعت کے مطابق کمپنیوں میں انویسٹ کرتے ہیں جب کہ یہ ہمارے لیے مشکل ہوتا ہے کہ کون کون سی کمپنی حلال ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس میں کبھی منافع ہوتا ہے اور کبھی نقصان ہوتا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر تفصیلی فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

المیزان انویسٹمنٹ میں سرمایہ کاری کرنا (اسلامک میوچل فنڈز اور اسٹاک مارکیٹ کے شئیرز کا حکم)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144503100396
تاریخ18-09-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں