بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمہوریت کا شرعی حکم

سوال

جمہوریت اورجمہوری نظام کفر ہے یا نہیں؟  برائے  مہربانی جواب مرحمت فرمائیں!

جواب

 جمہوریت  اور جمہوری نظام کا مطلب  عوام کی اکثریتی رائے کے مطابق نظام کو چلانا ہے،سیاسی نظام اورملکی  حالات کو عوام کی رائے  کے مطابق کسی ایک  حاکم کے ذریعے چلانا فی نفسہ کفر  نہیں ۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

جمہوریت کے بارے میں معتدل موقف

   اگر  آپ کو جمہوریت کے  کسی خاص پہلو کے متعلق سوال کرناہوتو اس بارے میں سوال لکھ کر  یا   کسی  قریبی   داراالافتاء سے   زبانی طورپر  اپنے مسئلے کے متعلق جواب   معلوم کریں۔

عمدۃ القاری میں ہے:

"وكانت الأئمة من الصحابة والتابعين ومن بعدهم كانوا يستشيرون الأمناء وقيد به لأن غير المؤتمن لا يستشار ولا يلتفت إلى قوله. قوله: في الأمور المباحة التي كانت على أصل الإباحة. قوله: ليأخذوا بأسهلها أي: بأسهل الأمور إذا لم يكن فيها نص بحكم معين والباقي ظاهر."

(باب قول الله تعالي والذين استجابوالربهم الحسني.. ج: 25، ص: 79،  ط: دارإحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101252
تاریخ03-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں