بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ازلان نام رکھنے کاحکم

سوال

"Azlaan" (ازلان)نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

اردو، عربی اور فارسی تینوں زبانوں کی لغت کی کتابوں میں تلاش کرنے کے باوجود ’’اذلان‘‘ یا ’’ازلان‘‘ کا معنی نہیں مل سکا، بظاہر یہ کسی اور زبان کا لفظ ہے۔

اور اگر اس نام کا تلفظ  "عِضْلان"(عین پر کسرہ، ضاد پر سکون کے ساتھ) ہو تو  یہ "عُضْل"(عین پر ضمہ، ضاد پر سکون کے  ساتھ) کی جمع ہے، اور یہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے: چوہے۔ اس تلفظ کے ساتھ یہ نام رکھنا ہر گز درست نہیں ۔

ناموں کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ بچوں کے نام حضرات انبیاءِ کرام علیہم السلام و التسلیمات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں پر رکھے جائیں یا عربی کے اچھے معنی والے نام رکھے جائیں۔

مزید دیکھیے:

اذلان نام رکھنا

اذلان نام رکھنا

کتاب المحکم میں ہے:

"والعضل: الجرذ، والجمع عضلان."

(كتاب المحكم والمحيط الأعظم، ج:1، ص408، العين والضاد واللام، الناشر: دار الكتب العلمية)

وكذا في تاج العروس أيضا

نیز اچھے ناموں کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:

اسلامی نام

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100905
تاریخ07-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں