بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شب برات میں بیٹی کے گھر کپڑے اور پیسے دینا کیسا ہے؟

سوال

شب برات کو بیٹی کے گھر کپڑے اور پیسے دینےکے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور کیا اس رات کو عید کی طرح منانا چاہیے؟  

جواب

صورت مسئولہ میں  بیٹی کو کپڑے اور پیسے پورے سال میں کسی بھی دن دے سکتے ہیں، اس کے لیے شب برات کی تخصیص کی کیا ضرورت ہے؟ اور نہ ہی اس کی تخصیص کی شرعاً کوئی حقیقت ہے؛ لہذابیٹی کو جب بھی کپڑے اور پیسے وغیرہ دینا چاہیں دے سکتے ہیں جائز ہے، شب برات  ہی کو خاص کر کے دیناجائز نہیں ہے۔ 

نیز شب برات عبادت کی رات ہے، اس میں انفرادی طور پر جتنا ممکن ہو رات میں عبادت کی جائے ، لہذا اس کا اہتمام کریں۔فقط واللہ اعلم

شب برات سے متعلق مزید تفصیل  درجہ ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں:

شبِ برات میں عبادت اور کھانے کا اہتمام کرنا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408100742
تاریخ06-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں