بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کوشرم کی وجہ سے اس کے اصل نام کی بجائے کسی اور نام سے پکارنا

سوال

شوہر کا نام علی ہے، لیکن علی کہنے سے شرما کر عاصم کے نام سے شوہر کو پکارتی ہے اور شوہر کو پتہ بھی ہے کہ مجھے عاصم کے نام سے پکارتی ہے۔ (گزشتہ فتوے کا نمبر:144407101433)

جواب

 بیوی اگر حقیقی نام سے نہیں پکارتی جو کہ اچھی بات ہے، لیکن عاصم کے نام سے شوہر کو پکارنا ، جو کہ نہ شوہر کا نام ہے اور نہ اس کا کوئی لقب،  تو مناسب معلوم نہیں ہوتا، اس لئے بہتر ہے کہ اس نام سے نہ پکارا جائے،  اسکی بجائے اس کی کنیت مثلاً ابو فلان، یا ابن فلان سے مخاطب کیا جائے۔

جاری شدہ فتویٰ اور تنقیح کا لنک:

بیوی کا شوہر کو نام سے پکارنا

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101995
تاریخ15-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں