بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک سے قرضہ لینا

سوال

میں میزان بینک گئی تھی قرضے کے لیے، ان سے بات کی تو بینک والوں نے بتایا کے ہم وکیل بن کے مکمل پیسوں کی ادائیگی کرکے پہلے مالک بنتے ہیں، پھر قسطوں پر اور کرائے کے طور پر آپ ہمیں قسطیں دیں، ہم 20 فیصد منافع لیتے ہیں اور آپ پیسوں کی ادائیگی کریں تو منافع کم بھی ہوجاتا ہے تو کیا اس ساری صورتِ حال میں میزان بینک سے قرضہ لے سکتے ہیں؟ راہ نمائی فرمادیں۔

جواب

میزان بینک سے مذکورہ معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں،کیونکہ یہ بیع عینہ ہے ، اور بیع عینہ سود کھانے کا ایک حیلہ ہے، اور یہ حرام ہے۔

تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں:

مروجہ غیر سودی بینکوں سے معاملات کرنا

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101993
تاریخ15-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں