بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیعت ہونا لازمی ہے؟

سوال

 کیا بیعت ہونا لازمی ہے؟

جواب

بیعت ہونا لازم  نہیں ہے، البتہ دین کےاحکامات کے مطابق زندگی گزارنا اور نفس کا تزکیہ اور اصلاح کرانا فرض ہے۔ اور کسی متبع سنت و شریعت پیر سے بیعت ہونا اسی اصلاح کا ایک ذریعہ ہے۔ بیعت ہوئے بغیر بھی کسی متبع سنت و شریعت عالم دین  اور اللہ والے سے اپنے نفس کی اصلاح کے معاملے میں راہ نمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"میں فتویٰ تو یہی دیتا ہوں کہ بیعت ہونا فرض نہیں ہے، بیعت سنتِ مؤکدہ بھی نہیں ہے، اصلاح فرض ہے، لیکن بیعت برکت کی چیز ہے۔"

(راہ سلوک کے آداب اور حقوق شیخ، ص:30، ط : ادارہ تالیفات اختریہ)

مزید تفصیل کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

بیعت کی حقیقت، اہمیت اور ضرورت

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144402100846
تاریخ07-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں