بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

برسی کا کھانا

سوال

برسی کا کھانا کھانا کیساہے؟

جواب

ایصالِ ثواب ہر وقت، ہر موقع پر کرنا جائز ہے، اور میت کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے،  لیکن اس کے لیے  سال کی تخصیص کرنا شرعاً  ثابت نہیں ہے؛ لہذا  یہ بدعت اور ناجائز ہے۔ جو مجلس بدعت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہو، اس میں شرکت کرنا بھی ناجائز  اور گناہ ہے؛ لہذا ایسی مجالس میں کھانا بھی نہ کھایا جائے۔

احکامِ میت میں ہے:

"دورِ حاضر کی ایک رسم یہ ہے کہ جس روز کسی کا خصوصًا صاحبِ وجاہت یا صاحبِ کمال کا انتقال ہوجائے، ہر سال اس تاریخ کو اجتماع کیا جاتا ہے، جلسے جلوس منعقد کیے جاتے ہیں، دعوتیں ہوتی ہیں اور بڑے اہتمام سے اس کو منایا جاتا ہے۔ قرآن و سنت، صحابہؓ و تابعینؒ، ائمہ مسلمین اور سلفِ صالحین، کسی سے اس کا کوئی ثبوت نہیں، لہذا اس کو ترک کرنا واجب ہے۔" (ص: 392)

فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

سوئم اور اس کا کھانا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100841
تاریخ12-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں