بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک وارث کا ترکہ کے کاروبار کے حصہ کو محنت کرکے بڑھانا

سوال

 میرے والد صاحب کا  انتقال ہوا تو والد کے ترکہ میں سے ایک مکان  اور بیس لاکھ  روپے  ملے،  مذکورہ دونوں چیزیں میری اور میری بہن کے تھے، اس وقت میں نے اپنی بہن کا حصہ نہیں دیا، اس بیس لاکھ روپے سے میں نے کاروبار کیا (کاروبار والد کا چل رہا تھا، اس میں  یہ بیس لاکھ بھی تھے، اسی سے  میں نے محنت کرکے کاروبار کیا) اس میں مجھے نقصان بھی ہوا ( لیکن مکمل سرمایہ ختم نہیں ہوا) اور پھر نفع بھی ہورہا ہے،  اب میں اپنی بہن کو اس کا حصہ دینا چاہ رہا ہوں تو آیا کہ مکان کی اس وقت کی ویلیو کے حساب سے ملے گا یا آج کی ویلیو کے حساب سے ملے گا ، اسی طرح بیس لاکھ کے حساب سے ملے گا یا اب چوں کہ وہ کاروبار بڑھ گیا ہے تو موجودہ ویلیو کے حساب سے  ملے گا، میرے گھروالوں کا کہنا ہے   کہ یہ ایک مکان دے دیں بس، کیا ان کی بات درست ہے، دارالافتاء بنوری ٹاؤن سے ایک فتویٰ بھی اس بارے میں لیا تھا جو ساتھ منسلک ہے۔

جواب

سائل کے سوال کا جواب  فتویٰ نمبر : 144303100650 میں دیاجاچکا ہے، سوال میں معمولی تبدیلی کے بعد بھی اس سوال  کا جواب  وہی ہے جو سابقہ فتویٰ میں دیا گیا ہے ، جس کا حاصل یہ ہے کہ  سائل  کی بہن کو مکان اور کاروبار میں لگے ہوئے پیسوں میں سے موجودہ قیمت کے حساب سے حصہ ملے گا۔صرف ایک گھر دے دینا کافی نہیں ہوگا، البتہ اگر وہ خوشی سے ایک گھر لے کر باقی حصہ دست بردار ہوجائے تو  یہ جائز ہے۔

سابقہ فتویٰ کا لنک درج ذرج ذیل ہے:

ترکہ کے کاروبار کی بڑھوتری میں بہن کا حصہ

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144304100452
تاریخ20-11-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں