بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاکستانی کاغذی نوٹوں کی شرعی حیثیت

سوال

پاکستانی کاغذی نوٹوں کی شرعاً حیثیت کیا ہے؟ آیا ثمن ہیں یا نہیں؟

جواب

کرنسی نوٹوں اور مروجہ سکوں کے بارے میں علماء کا اختلاف رہا ہے، بعض حضرات کی تحقیق یہ ہے کہ کاغذی نوٹ بذاتِ خود خلقتًا ثمن یا مال نہیں، بلکہ مال کی سند اور رسید کے طور پر ہیں۔ جب کہ ہمارے دار الافتاء کے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ نوٹ اور سکے قائم مقام ثمن اور اصطلاحی ثمن ہیں۔ تمام ممالک بشمول پاکستان کی مروجہ کاغذی کرنسی اور سکوں کا یہی حکم ہے۔ اور  آج کل ڈیجیٹل کرنسی کے نام سے جو کرنسی متعارف ہو رہی ہے، اس کا یہ حکم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

کرنسی کی حیثیت اور اس کی خرید و فروخت

ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعہ منافع کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202195
تاریخ07-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں