بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عیدِ غدیر کی حقیقت کیا ہے؟

سوال

عيد غدير خم كی كيا حقیقت ہے ؟  پس منظر کے  ساتھ  رہنمائی فرمادیں۔

 

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع سے واپسی پر  ’’غدیرِ خم‘‘  کے مقام پر   18 ذو الحجہ کو ایک خصوصی خطبہ دیا تھا  جس  میں حضرت  علی رضی اللہ عنہ کی منزلت وشرف بیان فرمایا تھا،  جس کی  یاد  میں   ایک طبقہ "عید غدیر خم"   مناتا ہے،  جس کا آغاز  کرنے والا معزالدولۃ  نامی حاکم گزراہے، جس  نے بغداد میں   18ذوالحجہ 351ہجری کو سب سے پہلے  عیدمنانے کا حکم   صادر کیا تھااوراسے   "عید خُم غدیر "  کا نام دیا تھا ،  حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مذکورہ خطبے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ و کرّم اللہ وجہہ کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، لیکن جو فرقہ اسے "عید" کے عنوان سے مناتا ہے، اور اس خطبے سے جو نتیجہ اخذ کرتا ہے وہ شرعًا درست نہیں ہے۔ 

تفصیل کے لیے دیکھیے:

غدیر خم کی کیا حقیقت ہے؟

عید غدیر کی شرعی حیثیت

عیدِ غدیرِ خم منانے کی شرعی حیثیت

  فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201823
تاریخ02-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں