بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسٹیٹ لائف انشورنس کا حکم

سوال

کیا اسٹیٹ لائف میں انشورنس جائز ہے؟

جواب

اسٹیٹ لائف انشورنس سمیت انشورنس/بیمہ کے جتنے مروجہ طریقے ہیں وہ سود اور قمار (جوا) کا مرکب ہیں۔ سود اور قمار کا لین دین شریعت مطہرہ میں بنصِ قرآنی حرام ہے؛  لہٰذا کسی بھی شخص کے لیے کسی بھی انشورنس کمپنی کے ساتھ کسی بھی قسم کی انشورنس/بیمہ کا کوئی معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

انشورنس کی شرعی حیثیت

زمین کم داموں میں خرید کر مہنگے داموں میں فروخت کرنا جائز ہے تو انشورنس کیوں حرام ہے؟

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201421
تاریخ28-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں