بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچوں کو ملنے والی عیدی ان پر خرچ کرنا

سوال

نا سمجھ بچوں کو عیدی وغیرہ کی صورت میں دی گئی رقم سے ان کے لیے کپڑے وغیرہ لینا درست ہے یا ان کے بڑے ہونے تک ان پیسوں کو حفاظت سے رکھنا بہتر ہوگا؟

جواب

نابالغ بچوں کو جو رقم   عیدی کے طور پر ملتی وہ ان بچوں کی ملکیت ہوتی ہے، کسی اور شخص کا اس رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہوتا، البتہ یہ رقم بچے کے  مصارف میں  خرچ کی جا سکتی  ہے، بچے کے کپڑے بھی لیے جاسکتے ہیں اور اس کے اسکول  کی فیس  وغیرہ بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ 

باقی کون سی صورت زیادہ بہترہے؟ اس کا فیصلہ بچے کا والد یا سرپرست اپنی مالی حیثیت اور بچے کے مصالح کو دیکھ کر کرسکتاہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں:

نابالغ بچوں کو ملنے والے تحائف کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201115
تاریخ23-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں