بھینس کی قربانی میں اہل حدیث مسلک کے فرد کی شرکت
سوال
کیا بھینس کی قربانی کے حصہ میں اہل حدیث کی شرکت جائز ہے ؟
جواب
بھینس کی قربانی جائز ہے بشرط یہ ہے کہ وہ دو سال کی عمر کا ہوچکا ہو، اس لیے کہ بھینس اور بھینسا، گائے ہی کی ایک قسم ہے، اور گائے کی قربانی جائز ہے، اور بھینس کی قربانی میں بھی گائے کی طرح سات حصہ ہوتے ہیں، اس لیے اس کے کسی حصہ میں اہلِ حدیث مسلک سے تعلق رکھنے والے کی شرکت بھی جائز ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
’’ويدخل في البقر الجاموس لأنه من جنسه ‘‘۔(22/106)
فقط واللہ اعلم
مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

