بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے بڑے جانور میں چھ حصے کرنا

سوال

کیا ایک بڑے جانور کے چھ حصے یا چھ حصے دار ہو سکتے ہیں؟

جواب

قربانی کے بڑے جانور (گائے، بھینس، اونٹ) میں سات سے کم افراد شریک ہوسکتے ہیں، لیکن  اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی شریک کا حصہ (یعنی اس کی طرف سے شامل کردہ رقم، جانور کی مجموعی قیمت کے) ساتویں حصہ سے کم نہ ہو، البتہ دو سے زیادہ اور سات سے کم ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ صورتِ مسئولہ میں بڑے جانور کے چھ  حصے ہوسکتے  ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

گائے میں چھ لوگوں کے شریک ہونے کی صورت میں حصوں کی تقسیم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212200746
تاریخ18-07-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں