بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

الکوحل ملا ہنڈ سینیٹائزر کا حکم

سوال

ہینڈ سنیٹائزر میں 75فیصد الکوحل ہوتا ہے،کیا اس سے ہاتھ صاف کرسکتے ہیں، اگرچہ الکوحل حرام ہے؟

جواب

وہ   الکوحل جو انگور  یا کھجور کی شراب سے حاصل کیا جاتا ہے  وہ    نہ صرف حرام  ہے، بلکہ نجس بھی ہے اور دوسری مائعات وغیرہ کو بھی نجس کردیتا ہے،  اس لیے کہ  اس قسم کا  الکوحل شراب (خمر) کا جزء ہوتا ہے، یعنی اس کا ماخذ شراب ہے اور شراب  میں دونوں عیب ( حرام و نجس ہونا)  پائے جاتے ہیں، لہذا جو حکم اصل  یعنی شراب ( خمر) کا  ہوگا، وہی حکم  شراب کے ہر ہر جز کا ہوگا،  یعنی ہاتھ، کپڑے پر لگنے کی وجہ سے ہاتھ ،کپڑا وغیرہ ناپاک ہوجائے گا،  اسی طرح سے اس کا پینا حرام ہوگا چاہے وہ نشہ آور ہو یا نہ ہو۔

موجودہ دور میں جو الکوحل ہینڈ سیناٹائزر  میں ہاتھ کے جراثیم مارنے کے لیے شامل کیا جاتا ہے  ، وہ  انگور یا کھجور سے کشید کردہ نہیں ہوتا، بلکہ دیگر اشیاء سے کشیدہ کردہ ہوتاہے، اور یہ نجس نہیں ہوتا،   نیز اس قسم کا  الکوحل   پینے کے قابل بھی نہیں ہوتا اور پینا  موت کا سبب بن سکتا ہے۔اور اس کے حصول  میں شراب کا استعمال واقع کے اعتبار سے درست نہیں ۔

لہذا انگور،  اور کھجور کے علاوہ  اشیاء سے کشیدہ کردہ الکوحل پاک ہے، اس کے خارجی استعمال سے ہاتھ، کپڑے وغیرہ  ناپاک نہیں ہوتے۔ تاہم اگر کسی خاص سینیٹائزر  یا کسی دوسری پروڈکٹ میں انگور یا کھجور سے کشیدہ الکوحل کا استعمال یقینی طور پر ثابت ہوجائے تو اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

الکوحل ملا سینی ٹائزر استعمال کرنا

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211201053
تاریخ30-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں