بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات کی رقم سے معلمات کو تنخواہ دینا

سوال

مسجد شریف میں خواتین کے لیے دینی درس گاہ قائم کی گئی ہے۔ جس میں آسودہ حال گھروں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو قرآنی تعلیم دی جاتی ہے ۔

مسئلہ یہ ہے  کہ اس درس گاہ کی اساتذہ کی تنخواہ عوامی چندے یا  عشر یا زکوۃ سے ادا کی جاسکتی ہے  کہ نہیں؟  یہ بات غور طلب ہے کہ خواتین کا تعلق غریب گھرانوں سے نہیں ہے!

 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں زکات ، عشر  اور دیگر واجب صدقات کی رقم سے  معلمات کو تنخواہ دینا جائز نہیں، البتہ   زکات  اور واجب صدقات کے علاوہ رقم سے ان کی تنخواہ کا  انتظام کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر مسجد میں خواتین کے مدرسے کے قیام سے مراد احاطہ مسجد ہے، یعنی مسجد کے لیے وقف زمین کے احاطے میں مدرسہ قائم کیا گیا ہے، لیکن مدرسہ شرعی مسجد کی حدود سے باہر ہے تو اس کی اجازت ہوگی، لیکن شرعی مسجد (جہاں باجماعت نماز ہوتی ہے) کی حدود میں خواتین کا مدرسہ قائم کرنا درست نہیں ہوگا۔

تفصیل کے  لیے دیکھیے:

زکاة کی رقم سے تنخواہ دینا

مسجد میں مدرسہ قائم کرنا

کیا مساجد میں بچوں کو قرآنی تعلیم دینا جائز ہے؟

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200695
تاریخ24-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں