بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیات النبی ﷺ کے منکر (مماتی) کا ذبیحہ

سوال

جو شخص عقیدہ  حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہو اس کے ذبیحہ حلال و حرام کا کیا حکم ہے؟

جواب

جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد  حیات النبی ﷺ  کا انکار کرتے ہیں ان کو  عرف میں "مماتی"   کہا جاتا ہے، عقیدۂ  حیات النبی اہلِ سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے، جس کا منکر  اہلِ سنت و الجماعت سے خارج اور گم راہ  و اہلِ ہوی میں سے ہے، لیکن یہ کافر یا مشرک نہیں؛ اس لیے ایسے شخص کا ذبیحہ کھانے کی گنجائش ہے۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

آپ ﷺ کے اپنی قبرِ مبارکہ میں زندہ ہونے کا عقیدہ رکھنے والے کے ذبیحہ کا حکم

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 296):

"(وشرط كون الذابح مسلمًا حلالًا."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144211200072
تاریخ13-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں