بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زكات حج روزہ نماز کس پر فرض ہے؟

سوال

عاقل بندے پر زكات حج روزہ نماز فرض ہے کہ نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام کے ارکان فرض ہونے کے لیے عاقل ہونے کے ساتھ ساتھ بالغ ہونا بھی ضروری ہے، بلوغت سے پہلے نماز، روزہ، زکات اور حج کچھ بھی فرض نہیں ہے، جیسے عقل کے بغیر کوئی رکن فرض نہیں ہے۔ نیز بعض ارکان کے فرض ہونے کے لیے عقل و بلوغت کے علاوہ مزید شرائط بھی ہیں، چناں چہ زکات واجب ہونے کے لیے عاقل و بالغ شخص کی ملکیت میں  نصاب کے بقدر  سونا،یا  چاندی، یا نقدی، یا مالِ  تجارت  ہونا  یا نصاب کے بقدر مویشی زکات کے وجوب کی شرائط کے ساتھ ہونا ضروری ہوتا ہے۔

دیکھیے: زکات کس پر واجب ہے؟

جب کہ حج کی فرضیت کے  لیے  عاقل و بالغ ہونے کے  ساتھ  ساتھ  اتنا مال ہونا ضروری ہوتاہے کہ سفرِ حج اور وہاں کی رہائش و طعام وغیرہ کے تمام اخراجات بھی اٹھاسکے اور اپنے پیچھے اتنے عرصے کے لیے اہل و عیال کے نفقے کا بھی انتظام کرسکے، اور خود تاجر یا کوئی ہنر مند ہے تو اتنی اضافی رقم یا اسبابِ حرفت ہوں کہ حج سے واپس آکر قدرِ کفایت اپنا کام کاروبار چلا سکے۔

دیکھیے: حج کس پر فرض ہے؟

روزہ کس عمر میں فرض ہوتا ہے؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200979
تاریخ26-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں