روزے کی حالت میں نسوار رکھنے کی صورت میں کفارے کا حکم
سوال
اگر روزے میں نسوار رکھی جائے تو اس کا کیا حکم ہے جب کہ یقین ہو کہ اس کا کوئی ذرہ اندر نہیں گیا؟ 1999کے آس پاس ایک معروف ہفت روزہ میں ایک مفتی صاحب نے لکھا تھا کہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ اگر روزہ فاسد ہوجاتا ہے تو کیا صرف قضا ہو گا یا کفارہ بھی؟
جواب
روزے کے دوران نسوار کے استعمال سے روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لازم ہو گی، کفارہ لازم نہ ہو گا۔
(رد المحتار) (2/ 395):
"وبه علم حكم شرب الدخان، ونظمه الشرنبلالي في شرحه على الوهبانية بقوله: ويمنع من بيع الدخان وشربه ... وشاربه في الصوم لا شك يفطر. ويلزمه التكفير لو ظن نافعاً ... كذا دافعاً شهوات بطن فقرروا".
وفیه أیضًا (2/ 415):
"(إلا إذا مضغ بحيث تلاشت في فمه) إلا أن يجد الطعم في حلقه، كما مر واستحسنه الكمال قائلاً: وهو الأصل في كل قليل مضغه".
وفیہ ایضا(2/ 409)
"(أو أكل أو شرب غذاء) بكسر الغين وبالذال المعجمتين والمد ما يتغذى به (أو دواء) ما يتداوى به والضابط وصول ما فيه صلاح بدنه لجوفه."
فقط واللہ اعلم
مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

