بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا درس کی ویڈیو بنا کر یو ٹیوب پر ڈالنا

سوال

ایک مسجد کے امام صاحب مسجد میں تفسیر کرتے ہیں اور اس کی ویڈیو  بناکریوٹیوب پر  ڈالتے  ہیں، تو کیا ان کی امامت درست ہے؟

جواب

جان دار کی تصویر کشی ایک ناجائز عمل ہے، پھر مسجد میں اس کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے، اور یوٹیوب  پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنا بھی جائز نہیں ہے، کیوں کہ یوٹیوب انتظامیہ صارف سے ابتدا میں معاہدہ کرتی ہے کہ صارف یوٹیوب کے قواعد و ضوابط کا پابند ہوگا، اور ان قواعد و ضوابط میں ویڈیو پر اشتہارات سے متعلق غیر شرعی شقیں موجود ہیں۔ تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

یوٹیوب پر چینل بنانا

ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ  مساجد  میں تصویر کشی  سے مکمل طور پر  اجتناب برتیں، عوام کو کوشش کرنی چاہیے کہ ایسی مسجد میں نمازیں ادا کریں جہاں کیمرے وغیرہ  نصب نہ کیے گئے ہوں، تاہم  اگر ویڈیو بنانے والے امام کے پیچھے  نماز پڑھ لی تو نماز ہو جائے گی۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201135
تاریخ05-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں