بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کب کرنا چاہیے؟

سوال

 عقیقہ  بچے  کی پیدائش کے 7 دن کے اندر کرنا  چاہیے یا 7 ویں دن ہی کرنا چاہیے؟

جواب

عقیقہ کا مسنون وقت پیدائش کا ساتواں  دن ہے،  ساتویں روز سے قبل  عقیقہ کرنے سے نفسِ  عقیقہ ہوجائے گا، تاہم سنت ِ وقت کی فضیلت حاصل نہ  ہوگی۔

تنقيح الفتاوى الحامدية  میں ہے:

"وَلَوْ قَدَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ قَبْلَ يَوْمِ السَّابِعِ أَوْ أَخَّرَهُ عَنْهُ جَازَ إلَّا أَنَّ يَوْمَ السَّابِعِ أَفْضَلُ". (٦ / ٣٦٧)

مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرنے کا حکم

عقیقہ کے اَحکام

ساتویں دن کے بعد عقیقہ کرنے کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200885
تاریخ31-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں