بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرنے کا حکم

سوال

ساتویں دن سے پہلے عقیقے کا حکم کیا ہے؟

جواب

ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرنے کی صورت میں نفسِ عقیقہ  کی سنت ادا ہوجائے گی، البتہ مستحب وقت (ساتویں، چودھویں  یا اکیسویں  دن) میں عقیقہ کرنے کا ثواب نہیں ملے گا۔

فيض الباري شرح البخاري - (7 / 81):
"ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت".

تنقیح الفتاوی الحامدیة (2/ 233) میں ہے:

"ويسن أن يعق عن نفسه من بلغ ولم يعق عنه". (کتاب الذبائح، مکتبة حامدیة) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200019
تاریخ03-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں