بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کبوتر پالنے کا حکم

سوال

کبوتر پالنا کیسا ہے گھر میں یا گھر کے باہر ؟

جواب

پرندے پالنا شرعاً جائز ہے بشرطیکہ  ان کے کھانے پینے کا مکمل خیال رکھا جائے،  یا ان کو کچھ وقت کے لیے آزاد چھوڑا جائے کہ وہ اپنے کھانے پینے کا خود انتظام کرسکیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بالا شرط کی رعایت کے ساتھ کبوتر  پالنا   جائز ہوگا، خواہ گھر میں پالے جائیں یا گھر کے باہر۔ البتہ کبوتر بازی کو مشغلہ بنانا اور گھروں کی  چھتوں پر کبوتر اڑانا  شرعًا ناپسندیدہ ہے، اس سے اجتناب چاہیے۔

مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

پرندے پالنا اور کاروبار کرنا

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200582
تاریخ25-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں