بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسلِ جنابت کیسے کرے؟

سوال

اگر  کسی  کو  غسل ِ جنابت کا تقاضا  ہو جائے  اور  اسے غسل کرنے کا صحیح طریقہ نہیں آتا تو کیا کرے؟  اسے کیسے پتا چلے کہ میں اب میرا جسم پاک ہے  یا  نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ ہر عاقل بالغ مسلمان کو چاہیے کہ غسلِ جنابت کا طریقہ اور اَحکام سیکھے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ لہٰذا جس شخص کو جنابت لاحق ہوجائے،  اسے چاہیے کہ سب  سے پہلے اپنے بدن پر اگر ظاہری نجاست لگی ہو  تو اسے صاف کرے، پھر وضو کرے  ( یہ مستحب ہے)  اس کے بعد  سارے بدن پر اچھی طرح پانی بہائے کہ بدن کا کوئی حصہ خشک باقی نہ رہے۔

ابتدا میں وضو کرتے ہوئے اچھی طرح  کلی کرے اور  ناک میں پانی ڈال کر سنک لے، اور اگر روزہ نہ ہو تو کلی کرتے ہوئے غرغرہ بھی کرے اور ناک میں پانی ڈالتے ہوئے ناک کے بانسے   ( یعنی ناک کی نرم  ہڈی ) تک پانی چڑھائے ، ( یہ دونوں عمل بھی مستحب ہیں)، اس کیفیت سے غسل کرنے سے انسان پاک ہوجاتا ہے۔

غسل کا مسنون طریقہ جاننے کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

غسل جنابت کا مسنون طریقہ

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201086
تاریخ03-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں