بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر کے لیے قرضہ اسکیم سے قرض لینے کا حکم

سوال

گورنمنٹ  گھر بنانے کے لیے فکس مارک اَپ پر قرضہ دے رہی ہے ،  جو کہ 5 سال تک   5 فیصد مارک اَپ کے ساتھ اَقساط میں لوٹانے ہیں  اور 5 سال کے بعد 7 فیصد مارک اَپ کے ساتھ اقساط کی صورت میں واپس کرنے ہیں،  کچھ اسلامک بینکنگ سے منسلک بینک بھی دے رہے ہیں۔ کیا شرعی طور پر یہ قرضہ لینا ٹھیک ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں   مذکور ہ قرضہ اسکیم شرعًا سودی قرض  پر مشتمل ہے ؛کیوں کہ قرض کے عوض مشروط طور پر ایک روپیہ بھی زائد لینا دینا سود میں داخل ہے؛لہذا ایسا قرضہ لینا جائزنہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک  پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

مکان کی تعمیر کے لیے حکومت سے قرضہ لینا

مختلف بینکوں یا اداروں سے سودی قرضہ لے کر یا شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ کر کے ذاتی گھر لینے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205200890
تاریخ02-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں