بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا عورت کے سامنے بال کھلے رکھنا

سوال

عورت كا عورت سے كتنا پرده هے؟ کیا عورت کے سر کے بالوں کا دوسری عورت سے پردہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو  یہ گھر کی عورتوں  کے ساتھ مشکل ہے، کیا باہر عورتوں کی محفل میں سر ڈھانپ کر رکھنا اجر وثواب کا باعث ہے؟

 

جواب

 عورت کے لیے مسلمان عورتوں کے سامنے سر، بازو، پنڈلی اور چہرہ وغیرہ کھولنا جائز ہے، اور عورتوں کے سر کے بالوں کا دوسری عورت سے پردہ نہیں ہے۔ البتہ گھر کے باہر کسی تقریب   میں اگرچہ وہ عورتوں ہی کی ہو،  چوں کہ اس میں  بہرحال یہ اندیشہ رہتا ہے کہ  کسی نامحرم کی نگاہ پڑجائے گی؛ اس لیے اس صورت میں خواتین کی موجودگی میں بھی ننگے سر رہنے سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل  لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

شادی بیاہ یا دیگر تقاریب میں خواتین کا خواتین کی موجودگی میں ننگے سر رہنا

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 371):

"(وتنظر المرأة المسلمة من المرأة كالرجل من الرجل) وقيل: كالرجل لمحرمه والأول أصح سراج (وكذا) تنظر المرأة (من الرجل) كنظر الرجل للرجل (إن أمنت شهوتها) فلو لم تأمن أو خافت أو شكت حرم استحسانا كالرجل هو الصحيح في الفصلين تتارخانية معزيًا للمضمرات (والذمية كالرجل الأجنبي في الأصح فلاتنظر إلى بدن المسلمة) مجتبى."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200790
تاریخ04-12-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں