بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

سوال

حضرت علی اور حضرت فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہما  کا نکاح کس نے پڑھایا ؟ شیعہ کہتے ہیں کہ ابو طالب نے پڑھایا!

جواب

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح   مدینہ منورہ میں سن 2 ھجری میں پڑھایا۔  جب کہ ابو طالب نکاح کے وقت حیات نہیں تھے، ان کا انتقال سن 10 نبوی میں ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں ہی ہوگیا تھا، گویا ان کی وفات کے تقریبًا پانچ سال بعد یہ نکاح ہوا؛ لہٰذا ان کی جانب نکاح کا قول منسوب کرنا کیسے درست ہوسکتاہے!!!

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (16/ 249):

"وأنكحها رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَليّ بن أبي طَالب، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ، بعد وقْعَة أحد، وَقيل: تزَوجهَا بعد أَن ابتني رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بعائشة بأَرْبعَة أشهر وَنصفاً وَبنى بهَا بعد تَزْوِيجه إِيَّاهَا بِتِسْعَة أشهر وَنصف، وَكَانَ سنّهَا يَوْمئِذٍ خمس عشرَة وَخَمْسَة أشهر وَنصفاً، وَكَانَ سنّ عَليّ يَوْمئِذٍ إِحْدَى وَعشْرين سنةً وَخَمْسَة أشهر".

(الاستیعاب فی معرفة الأصحاب:4/1893):

"قَالَ ابْن السراج: سمعت عَبْد اللَّہِ بْن مُحَمَّد بْن سُلَیْمَانَ بْن جعفر الهاشمي یقول: ولدت فاطمة رضي اللَّہ عنها سنة إحدی و أربعین من مولد النَّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْه وَسَلَّمَ، وأنکح رَسُول اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْه وَسَلَّمَ فاطمة عَلِیّ بْن أَبِی طَالِبٍ بعد وقعة أحد. وقیل: إنه تزوجها بعد أن ابتنی رَسُول اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بعائشة بأربعة أشهر ونصف، وبنی بها بعد تزویجه إیاها بتسعة أشهر ونصف․"

 مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح کی تاریخ

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144204200146
تاریخ19-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں