بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر دی جانے والی مٹھائی کا حکم

سوال

کیا کوئی غیر مسلم اپنے تہوار میں میٹھائی یا کوئی چیز تحفہ دے تو لینا چاہیے یا نہیں؟

جواب

غیر مسلموں کی جانب سے دی گئی مٹھائی وغیرہ کے متعلق اگر یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر یہ نہیں چڑھائی ہے اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہے، اور نہ ہی دینے والوں کی آمدنی حرام  ہو تو اس کا استعمال جائز ہے، البتہ پھر بھی احتیاط بہترہے۔

نیز  اگر غیر مسلم اپنے تہوارکے موقع پر کوئی چیز دیتا ہے تو اسے تہوار کی مبارک باد ہرگز نہ دی جائے۔ اور غیرمسلموں سے دلی تعلق و دوستانہ نہ رکھا جائے۔

مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

دیوالی کے موقع پر دی جانے والی مٹھائی کھانے کا حکم

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203201447
تاریخ13-11-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں