بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چرس بیچنے والے کی کمائی

سوال

چرس بیچنے والے کی کمائی حلال  ہے یا نہیں؟

جواب

چرس   کا ادویہ میں استعمال ہونے کی وجہ سے کاشت جائز ہے۔ اور کسی دوائی بنانے والے کو  یہ بیچنا جائز ہے،اس کی کمائی حلال ہے  لیکن ایسا شخص جس کے بارے  میں یقین ہو کہ یہ اس کو غلط مقصد میں استعمال کرے گا اس کو بیچنا  جائز  نہیں  ہے۔ اور اس کی کمائی پاکیزہ نہیں ہوگی ۔

مزید تفصیل  کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

چرس اور افیون کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144203200326
تاریخ23-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں