بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن قرآنک اکیڈمی کے ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی کے بعد بقیہ رقم کیا اکیڈمی کا مالک استعمال کر سکتا ہے؟

سوال

آن لائن قرآن اکیڈمی بنا کر  تنخواہ پر اساتذہ رکھنا اور بقیہ رقم سے منافع حاصل کرنا  کیسا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں عرف  کے مطابق مذکورہ ادارہ طلبہ سے فیس وصول  کر سکتا ہے، اور اساتذہ و دیگر ملازمین کی تنخواہوں کے ادائیگی کے بعد بقیہ رقم مذکورہ ادارے کا مالک اپنے  استعمال میں لا سکتا ہے، شرعًا ممانعت نہیں۔

آن لائن قرآنک  اکیڈمی کھولنے  کی شرائط جاننے کے لئے  درج ذیل  فتوی دیکھ لیا جائے:

آن لائن قرآن اکیڈمی کھولنا

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200840
تاریخ07-10-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں