بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے درمیان وقفے کے لیے تدابیر اختیار کرنا

سوال

موجودہ دور میں جہاں وسائل بہت کم ہیں اور نکاح کے بعد جنسی ملاپ سے بھی احتراز ممکن نہیں تو اس صورت حال میں بچے کی پیدائش میں وقفہ رکھنے کے لیے کون کون سے طریقے بروئے کار لائے جا سکتے ہیں!

جواب

شرعی طور پر دو بچوں کے درمیان وقفے کے متعلق کوئی تحدید ثابت نہیں ہے، نیز کسی عذر کے بغیر ضبطِ تولید اور بچوں کے درمیان وقفہ کرنا شرعاً مقاصدِ نکاح کے خلاف ہے،  شریعت کی نظر میں اولاد کی کثرت پسندیدہ ہے۔ البتہ اگر عورت کی صحت متحمل نہ ہو یا کوئی اور عذر ہو تو باہمی رضامندی سے  اولاد میں وقفہ کرنا جائز ہے، اور اس کے لیےشرعاً جائز اور مناسب کوئی بھی تدبیر  اختیار کی جاسکتی ہے، لہذا ضرورت پر اپنے  معالج کی راہ نمائی سے کوئی مناسب طریقہ اختیار کرسکتے ہیں۔ عذر میں بھی کوئی ایسی صورت اپنانا جائز نہیں ہے جس سے قوتِ تولید بالکلیہ ختم ہوجائے، مثلاً: رحم (بچہ دانی) نکال دینا یا حتمی نس بندی کرادینا وغیرہ۔ یا ایسی صورت جس میں غیر کے سامنے ستر کھولنا پڑے یا کوئی اور شرعی منکر لازم آتاہو، اس کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:

دو بچوں کے بعد وقفہ کرنا

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144202200056
تاریخ20-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں