بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ابتدائی حمل کو ضائع کرنا

سوال

کیا بالکل شروع میں حمل ضائع کرنا صحیح ہے؟

جواب

حمل جب چار مہینے کا ہوجائے، تو اس میں جان پڑجاتی ہے، اس کے بعد حمل کا ساقط کرنا حرام ہے، اس سے پہلے اگر واقعتًا کسی مجبوری و عذر کے تحت حمل ساقط کیا جائے تو جائز ہے، لیکن بغیر عذر کے مکروہ ہے، اور اگر معاشی خوف سے کیا جائے تو  ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنکس پر فتاویٰ دیکھیے:

اسقاطِ حمل کی مدت

دس بارہ دن کے حمل کو ساقط کرنے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144201201363
تاریخ16-09-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں