بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا عقیقہ والد کرے یا شوہر؟

سوال

بچی کا عقیقہ والد کرے یا شوہر؟

جواب

اگر مستحب اوقات (ساتویں دن، چودھویں دن، اکیسوے دن) میں عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو موت تک عقیقہ کر سکتے ہیں اور جس کا عقیقہ کیا جارہا ہو، اس کا خرچہ جس کے ذمہ ہو، اصولی طور پر وہی عقیقہ کا خرچہ اٹھائے گا؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں عقیقہ کا خرچہ شوہر پر ہوگا، البتہ اگر بچے کا نانا عقیقہ کرنا چاہے تو وہ بھی کرسکتا ہے، اور اس کے عقیقہ کرنے سے بھی استحباب حاصل ہوجائے گا، روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ کیا۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

جس کے ذمہ بچہ کا نفقہ واجب ہے، اسی کے ذمہ عقیقہ بھی ہے۔۔۔۔الخ

(ج۱۰ / ص۶۱)

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

بچے کے عقیقے کے لیے باپ کا عقیقہ ہوا ہونا؟ / نانی نواسے کا عقیقہ کر سکتی ہے

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200573
تاریخ29-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں