بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا ارھاء نام رکھنا

سوال

کیا میں اپنی بیٹی کا نام ارھاء رکھ سکتا ہوں؟ اور کیا یہ اسلامی نام ہے؟

جواب

اَرھاء کے عربی زبان میں معنی : کسی چیز کے اطراف اور جوانب کے ہیں، نیز بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ یہ ہندووں کے کسی بھگوان کا نام بھی ہے، اس لیے یہ نام نہ رکھا جائے، اس کے بجائے بچوں کا نام انبیاء کرام علیہم السلام ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اور نیک مسلمان مردوں کے نام پر یا کسی  اچھے بامعنی عربی نام پر رکھ لیں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

ارحاء نام کا معنی

خارحا نام کا معنی اور نام رکھنے کا حکم

تاج العروس (38 / 207):

"و أرهاء أجأ: جوانبها."

المعجم الوسيط (1 / 379):

"(أرهاء) الشَّيْء جوانبه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112200460
تاریخ27-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں