بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض لیا ہو تو کرنسی کی قدر میں تبدیلی کا حکم

سوال

قرض کے حوالے سے مغرب سے مرعوب طبقہ ایک انوکھے طریقہ سے سودی قرض کے جواز کی ترغیب دے رہا ہے کہ دیکھیں آج قرض جب لے رہے ہیں روپے کی مارکیٹ ویلیو اور ہے اور سال بعد اور ہوگی تو یہ سود کیسے بن جاتا ہے؟ اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

واضح ہو کہ قرض دیتے  وقت جو  رقم دی جائے، قرض لوٹاتے ہوئے اتنی ہی رقم لوٹانا ضروری ہوتا ہے۔کرنسی کی قدر کم ہونے کی وجہ سے مقروض سے کوئی اضافہ وصول کرنا سود ہے۔

شامی میں ہے :

"أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه و رخصه." (5 / 162، سعید)

مزید دیکھیے:

قرض واپسی کرتے وقت سونے کی قیمت کا اعتبار کرنے کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201672
تاریخ19-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں