بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، چھ بیٹے اور سات بیٹیوں میں تقسیمِ ترکہ

سوال

میت کے ترکے میں صرف 5250 روپے  اور مختلف استعمال کی اشیا ہیں، مثلًا ایک کپڑوں کی پیٹی،کچھ کپڑے،ایک عدد اسٹول ، ایک موبائل اور کچھ کتابیں ، میت کی زوجہ بھی حیات ہیں اور   7 بیٹیاں اور   6بیٹے موجود ہیں ، تقسیمِ ترکہ کس طرح ہوگا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں میت کے  حقوقِ متقدمہ   کی ادائیگی کے بعد میت کے کل ترکہ کو  152 حصوں میں تقسیم کرکے 19 حصے بیوہ کو، 14 حصے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

لہذا 5250 روپے میں سے 656.25 روپے بیوہ کو، 483.55 روپے ہر ایک بیٹے کو اور  241.77 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

نیز موبائل اور کپڑوں وغیرہ کو فروخت کرکے حاصل شدہ رقم کو بھی مندرجہ بالا طریقے کے مطابق تقسیم کر لیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201589
تاریخ18-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں