بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر، بیٹا اور تین بیٹیوں میں جائیداد کی تقسیم

سوال

میری بھابھی کا انتقال ہوا ہے، ان کے ورثاء میں تین بیٹیاں، ایک بیٹا اور شوہر ہے۔ ان کے پاس  10 تولہ سونا، کرائے کی کچھ جائیدادیں اور نقدی ہے، جو شوہر کی کمائی سے انہیں حاصل ہوا تھا۔ اب ان کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

شوہر نے کمائی کرکے جورقم یا  چیزیں بطورِ تحفہ، مکمل قبضہ کے ساتھ اپنی بیوی کو دی تھیں، وہ چیزیں مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوں گی۔

مرحومہ کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ   کی ادائیگی کے بعد بقیہ ترکہ کو کل 20 حصوں  میں  تقسیم کرکے مرحومہ کے شوہر کو 5 حصے، بیٹے کو 6 حصے اور ہر بیٹی کو 3 حصے ملیں گے۔

یعنی فی صد کے اعتبار سے شوہر کو 25%، بیٹے کو 30% اور ہر بیٹی کو 15% ملے گا۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200899
تاریخ07-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں