بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ ، بیٹی ، والدین اور بہن بھائیوں میں وراثت کی تقسیم

سوال

ایک شخص نے وفات پائی ہے اور ورثاء میں بیوہ ، بیٹی، والدین، تین بھائی، اور دو بہنیں چھوڑی ہیں۔ وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی وراثت کے حق دار اس کے والدین، بیوہ اور بیٹی ہیں، بھائی اور بہن کو مرحوم کی وراثت  میں سے حصہ نہیں دیا جائے گا۔ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ  کی ادائیگی کے بعد مرحوم کے کل ترکہ کو 24حصوں میں تقسیم کیاجائے گا ، جس میں سے 3حصے  بیوہ کو  (یعنی ٪12.5)، والدہ کو 4 حصے (یعنی ٪16.66)، بیٹی کو 12 حصے (یعنی ٪50) اور والد کو 5 حصے (یعنی٪ 20.83) ملیں گے۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200878
تاریخ07-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں