بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی یا واجب صدقہ عالم دین کو دیا جاسکتا ہے؟

سوال

(۱) کیا کسی عالم دین کو کو نفلی صدقہ دیا جا سکتا ہے؟

(۲) کیا کسی مستحق عالم دین کو واجب صدقہ دیا جا سکتا ہے؟

جواب

(۱) نفلی صدقہ، ہدیہ کے حکم میں ہوتا ہے، یہ مال دار اور غریب ہر ایک کو دیا جاسکتا ہے، لہذا عالمِ دین امیر ہو یا غریب اسے نفلی صدقہ دیا جاسکتا ہے۔

(۲) مستحق عالمِ دین کو صدقۂ واجبہ دیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ تنخواہ وغیرہ میں بطورِ اجرت نہ دیا جائے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار  (2 / 339):

"(قوله: أي مصرف الزكاة والعشر) ... وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200419
تاریخ29-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں