بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈی ایس او پی فنڈ میں ملنے والے انٹرسٹ کا حکم

سوال

میں آرمی میں ملازمت کرتا ہوں، ہم ہر مہینہ ڈی ایس او پی فنڈ (DSOP fund) جمع کراتے ہیں جو کہ ہمیں ریٹائر ہونے کے بعد یکمشت مل جاتا ہے، اس رقم پر سالانہ انٹرسٹ لگتا ہے لیکن یہ انٹرسٹ فکس نہیں ہوتا، کسی سال زیادہ ہوتا ہے اور  کسی سال کم ہوتاہے۔ کیا یہ انٹرسٹ حلال ہے، یا سود کے زمرے میں آکے حرام ہوجاتا ہے؟ جو فنڈ ہم جمع کرتے ہیں وہ 200 روپے لازمی جمع کرانا ہوتاہے جو ہر مہینہ خود بخود تنخواہ میں کاٹ دیا جاتا ہے جب کہ اپنی مرضی سے اس کو بڑھا بھی سکتے ہیں، مزید یہ کہ اگر وہ کسی سال انٹرسٹ نہ بھی لگائیں تو ہم کو کوئی اختیار نہیں کہ ہم ان سے پوچھ سکیں۔ براۓ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جتنی کٹوتی جبراً (غیر اختیاری) ہوتی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم (انٹرسٹ) ملازم کے لیے لینا شرعاً جائز ہے اور جتنی رقم ملازم اپنی مرضی سے کٹواتا ہے اس پر ملنے والی زائد رقم (انٹرسٹ) لینا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں:

ڈی ایس پی فنڈ کا حکم

جی پی فنڈ

جی پی فنڈ (GP Fund) کی مد میں سرکاری ادارے کی جانب سے ملنے والی اضافی رقم کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201732
تاریخ20-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں