بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ناک سے خون نکلنا

سوال

اگر نماز میں ناک سے خون نکل جائے تو نماز کا حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  خون جسم سے نکل کر ٹپک جائے یا اپنے مقام سے بہہ کر اس جگہ تک پہنچ جائے  جس کا دھونا وضو یا غسل میں فرض ہے  تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دورانِ  نماز ایسا ہونے سے نماز بھی فاسد ہوجائے گی۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں نماز کے دوران ناک سے  خون نکل کر بہہ جائے تو اس سے وضو  ٹوٹ جائے گا، نماز بھی فاسد ہوجائے گی ، دوبارہ وضو کرکے نماز کو مکمل کرنا یا از سر نو پڑھنا ضروری ہوگا۔ (فتاوی شامی 1/134)  فقط واللہ اعلم

نیز نماز میں بنا سے متعلق تفصیل کے لیے  درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

نماز میں بناء یا استیناف

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201536
تاریخ17-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں