ممنوع چیز کو چھپانے کے لیے اجازت دی گئی چیز کا سہارا لینا
سوال
اگر کسی حرام چیز کو چھپانے کے لیے حلال چیز کا سہارا لیا جائے تو کیا حلال چیز بھی حرام ہو جاتی ہے، مثلاً گٹکا(سفینا) جس پر حکومت کی جانب سے پابندی ہے اور اسے کسی ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے کے لیے حلال چیز کا سہارا لیا جاتا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں ممنوعہ چیز کو چھپانے کے لیے حلال چیز کا سہارا لینے سے حلال چیز حرام نہیں ہوتی، تاہم ممنوعہ چیز کو چھپانے کے لیے جھوٹ یا دھوکے کا سہارا لینا گناہ ہے، اس کا گناہ ضرور ہوگا۔
نیز واضح ہو کہ گٹکے کے مضرِ صحت ہونے کی وجہ سے اس کے بنانے اور بیچنے پر حکومت نے پابندی لگائی ہے تو اسے بیچنے سے احتراز ضروری ہے؛ تاہم شرعی اعتبار سے اسے حرام کہنا محلِ نظر ہے۔ فقط واللہ اعلم
تفصیل کے لیے دیکھیے:
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

