بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حروف تہجی کے اعداد کا استعمال کرنا

سوال

حروفِ تہجی کے اعداد کا استعمال بتائیں!

جواب

حروفِ تہجی اور ابجد سے متعلق شرعی مسئلہ یہ ہے کہ :

اس   کے موافق اعداد کا شمار اور اعتبار کرنا بعض چیزوں (مثلاً  تاریخِ وفات یا تاریخِ پیدائش بعدالوقوع)میں جائز ہے، لیکن  ’’علمِ ابجد‘‘کے ذریعہ ایسا کام لینا جیساکہ علمِ نجوم میں لیاجاتاہے، جیسے فال نکالنا، زائچے بناکر کسی کے حالات معلوم کرنا اور اس پر یقین کرنا ناجائز اور حرام ہے۔(کفایت المفتی ، 9/222دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم

حروفِ تہجی کے اعداد جاننے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

حروف تہجی کے اعداد

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203292
تاریخ23-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں