بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مودودی صاحب کی تفسیر سے استفادے کا حکم

سوال

مولانا مودودی  کی تفسیر پڑھنی چاہیے یا نہیں،  آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب

مولانا مودودی کی تحریروں میں کج روی ہے،  وہ  اپنے ترجمہ وتفسیر میں بھی  بہتیرے مقامات پر جادۂ حق سے ہٹے ہوئے اور جمہور علمائے امت کی راہ سے پھرے ہوئے ہیں، لہذا عوام ان کی تفسیر اور  تحریروں اور تقریروں کے پڑھنے سننے سے اجتناب کریں۔  اس بارے میں تفصیلی معلومات جاننے کے لیے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ کی کتاب ’’اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔

نیز مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

مودودی صاحب کے عقائد اور ان کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109203278
تاریخ22-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں