بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ عورت کے لیے سورۂ یوسف کی تلاوت کرنا

سوال

کیا حاملہ عورت کے لیے سورۂ  یوسف کی تلاوت کرنا لازمی ہے؟ قرآن و حدیث میں اس حوالے سے کوئی احکامات اور فضائل موجود ہیں تو بیان فرمادیں!

جواب

حاملہ عورت کے لیے سورۂ یوسف کی تلاوت کرنا لازمی نہیں  ہے، قرآن و حدیث میں اس کا حکم یا فضیلت منقول نہیں ہے،  البتہ بطورِ  وظیفہ کسی بزرگ سے منقول ہوسکتا ہے، اس اعتبار سے اس پر عمل کرنا  جائز ہے۔فقط واللہ اعلم

اس سے متعلقہ مسئلے کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

کیا حاملہ عورت کے لیے سورۂ مریم کی تلاوت کرنا لازمی ہے؟

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201236
تاریخ13-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں