بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیئرز پر زکات کا کیا حکم ہے؟

سوال

میں نےشیئرز خریدے ہیں ایک لاکھ روپے کے،  مگر جب واپس لینے جاؤ ں تو وہ مجھے 5000 واپس دیتے ہیں تو میرے اس مال پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

یہ واضح رہے کہ زکوۃ اصل سرمایہ اور منافع دونوں پر لازم ہوتی ہے؛ لہذاشیئرز  کی اصل رقم یعنی شیئرز کی قیمتِ خرید اور شیئرز سے حاصل ہونے والے منافع  دونوں پر زکوۃ دینا لازم ہوتی ہے، اور اگر نفع کے بجائے شیئرز کی مارکیٹ ویلیو کم ہوجائے تو زکات کا سال پورا ہونے پر بازاری قیمت کے اعتبار سے اس کا حساب کیا جائے گا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر زکاۃ کا سال پورا ہونے کے وقت آپ کے خریدے گئے شیئرز کی قیمت ایک لاکھ روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ  پانچ ہزار ہوگئی ہے تو کل مالیت یعنی ایک لاکھ پانچ ہزار کی زکاۃ ادا کرنی ہوگی، اور اگر آپ کے خریدکردہ شیئرز کی قیمت ایک لاکھ سے کم ہوگئی ہے اور زکاۃ کا سال پورا ہونے پر آپ صاحبِ نصاب ہیں تو شیئرز کی قیمت کا حساب کرتے ہوئے موجودہ قیمت کے حساب سے زکاۃ ادا کرنی ہوگی۔
باقی شیئرز کے کاروبار سے متعلق  حکم جاننے کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

شیئرز کا کاروبار

ریگولر شیئرز(regular shares) اور فیوچر شیئرز (future shares)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200491
تاریخ02-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں