بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران دیور کو ساتھ ٹھہرانا

سوال

میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے،  میں عدت میں ہوں، کیا میں عدت کے دوران اپنے دیور کو اپنے گھر میں روک سکتی ہوں ،  رات میں بھی مستقل رکنے کے لیے؟ میرے دو بچے بھی ہیں، ایک 12 سال کی بیٹی ہے اور ایک 14 سال کا بیٹا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ عورت کے لیے دیور غیر محرم ہے، لہذا عام احوال یا دورانِ عدت دیور سے پردہ کرنا ضروری ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ عدت کے دوران دن یا رات کے وقت دیور کو اپنے گھر میں ٹھہرائے، کیوں کہ یہ کئی قباحتوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر تنہائی کی وجہ سے وحشت یا خطرہ محسوس ہوتاہو تو  کسی بزرگ محرم (مثلاً والد) یا اپنی والدہ یا خاندان کی کسی بزرگ خاتون کو گھر پر ٹھہرالیں۔

مزید تفصیل کے درج ذیل فتوی ملاحظہ کیجیے:

دیور اور جیٹھ سے پردہ

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200466
تاریخ01-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں