بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ختم نبوت کا انکار کرنے والوں کو مسلمان سمجھنے والے شخص کا حکم

سوال

کیا حکم ہے اس شخص کا جو ضروریاتِ  دین سے واقف ہو،  پھر بھی ختمِ  نبوت کا انکار کرنے والوں کا کافر نہ مانتا ہو؟ نیز ان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہو؟ نیز کیا اس کے مرنے پر دعا کی جاسکتی ہے؟

جواب

جو شخص ختم نبوت کا انکار کرنے والوں کو مسلمان سمجھے وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اگر وہ توبہ  اور تجدیدِ  ایمان  کیے بغیر مرگیا تو اس کے  لیے مغفرت کی دعا کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

قادیانیوں اور غیرمسلموں کے ساتھ لین دین کا حکم اور فرق

قادیانی کا نکاح پڑھانے والے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200358
تاریخ31-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں